اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "واشنگٹن اسٹڈیز سینٹر" کے رکن "سائمن ہینڈرسن" نے نے روس اور شام کے درمیان تیل اور گیس کے معاہدے کے بارے میں کہا: توانائی کے ماہرین کی پیشنگوئی کے مطابق بحیرہ روم کے مشرق میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں اور امریکی جیو فزکس مرکز نے سنہ 2010 میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس علاقے میں ایک ارب ستر کروڑ بیرل تیل اور 122 کھرب مکعب فٹ گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے ساحلوں کے قریب 35 کھرب مکعب فٹ گیس کے ذخائر ہیں اور قبرس کے ساحلوں کے قریب 5 کھرب مکعب فٹ اور صہیونی ریاست اس سال فلسطین کے پانیوں سے گیس نکالنے کا کام شروع کرے گی۔ روس اور شام کے درمیان مذکورہ معاہدہ قدرتی گیس کے سلسلے میں علاقائی کشمکش میں شدت آنے کا سبب بن سکتا ہے اور شام کے امن مذاکرات میں بھی ایک نئے موضوع کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2013 کے آغاز پر ایک ترک جہاز نے بحیرہ روم میں جزیرہ قبرس کے جنوب میں تیل اور گیس تلاش کرنے کی کوشش کی اور یہ وہی متنازعہ علاقہ ہے جس کو نکوسیا اپنی معاشی عملداری کا حصہ سمجھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس اور شام نے بحیرہ روم میں 845 سمندری میل مربع کے علاقے کے لئے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کو بلاک 2 کہاجاتا ہے اور یہ علاقہ شام کی طرطوس اور بانیاس کی بندرگاہوں کے درمیان واقع ہوا ہے۔ شام ابھی تک اپنے آبی پڑوسی ممالک یعنی قبرس، ترکی اور لبنان کے ساتھ سمندری حدود کے تعین کے سلسلے میں مفاہمت نہیں کرسکا ہے۔ شام کے وزیر تعلیم "سلیمان عباس" نے دمشق میں چین اور روس کے سفیروں کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد بحیرہ روم میں شام کے ساحلی علاقوں سے تیل اور گیس نکالنے کے امکان کے بارے میں کہا: اس معاہدے میں ابتدائی طور پر طرطوس سے بانیاس تک کے ساحلی علاقے شامل ہیں جہاں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کئے جائیں گے اور انہیں نکالنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ اس معاہدے پر نو کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور روس کمپنی یہ اخراجات برداشت کرے گی کیونکہ ابتدائی تحقیق کے مطابق اس علاقے میں تیل اور گیس تجارتی سطح پر موجود ہے اور روس اس کے لئے ابتدائی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا شروع کرے گا اور آئل اور گیس فیلڈ کو ترقی دے گا اور یہاں سے تیل اور گیس کی پیداوار آنے والے چند سال میں شروع ہوگی۔ مغرب نواز خودساختہ جلاوطن جماعت "شورائے ملی" نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
31 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 491431
شام کی وزارت داخلہ نے روس کی تیل اور گیس کی کمپنی "سایوز آئل اینڈ گیس" کے ساتھ بحیرہ روم میں تیل نکالنے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت روس بحیرہ روم میں شام کے پانیوں میں تیل اور گیس تلاش کرکے نکالے گا۔